23 ستمبر، 2026، 7:42 PM

حزب اللہ اور امل تحریک بہترین پوزیشن میں ہیں، لبنانی رکن پارلیمنٹ

حزب اللہ اور امل تحریک بہترین پوزیشن میں ہیں، لبنانی رکن پارلیمنٹ

لبنان میں مزاحمتی پارلیمانی بلاک کے سربراہ نے کہا کہ جامع قومی دفاعی حکمت عملی پر اتفاق کے لیے ایک خودمختار طاقت ضروری ہے اور حزب اللہ کی اس حوالے سے ریڈ لائنز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ کے رکن اور مزاحمتی پارلیمانی بلاک کے سربراہ محمد رعد نے کہا ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے پاس محدود کرنے سے متعلق کسی بھی بات کو لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے صہیونی حکومت کے انخلا، جارحیت کے خاتمے اور دریائے لیطانی کے جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی سے مشروط ہونا چاہیے۔ اگر یہ اقدامات انجام پاتے ہیں تو جامع قومی دفاعی حکمت عملی پر اتفاق کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

محمد رعد نے ویب سائٹ ’’المدن‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ وہ ایسے کسی بھی معاہدے کے ساتھ مثبت انداز میں پیش آنے کے لیے تیار ہیں جو انخلا اور دشمنانہ اقدامات کے خاتمے کی ضمانت دے، تاہم شرط یہ ہے کہ یہ معاہدہ بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے اور دشمن کو کسی قسم کی رعایت دیے بغیر طے پائے۔

انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ آئین اور قومی مفاہمت کی دستاویز کی پابندی کریں اور قومی اتحاد کے تحفظ پر زور دیں۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے رعد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کے استحکام پر زور دیا اور کہا کہ ایران اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ لبنان کا مسئلہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں عمل درآمد کے لیے پہلے نکتے کے طور پر شامل ہو۔

محمد رعد نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ اور امل تحریک اپنی بہترین حالت میں ہیں۔ اسلامی مزاحمت نے انتہائی حساس اور پیچیدہ حالات میں جارحیت کے مقابلے میں ایک عظیم مزاحمتی کارنامہ انجام دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگوں نے حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے سے امید لگا رکھی تھی اور صہیونی دشمن اور اس کے اتحادی سمجھتے تھے کہ حزب اللہ شکست کھا جائے گی۔ لبنان کی حکمران قوت بھی مزاحمت کو فریم ورک معاہدے کے اقدامات پر عمل درآمد کے طریقہ کار میں شریک کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن یہ تمام اندازے ناکام ہوگئے۔

رعد نے علی الطاہر کی پہاڑیوں میں ہونے والی پیش رفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علی الطاہر کے میدان سے حاصل ہونے والے اسباق دشمن کے خلاف مسلسل مقابلے کے طریقہ کار میں انتہائی اہم ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیلی ان کارروائیوں کی پیچیدگیوں پر غور کریں گے۔ چونکہ مزاحمت ان کارروائیوں کی تفصیلات دشمن اور اس کے اتحادیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی، اس لیے اس مرحلے پر ابہام کو ترجیح دی گئی ہے اور مستقبل میں علی الطاہر کی کارروائیوں میں مزاحمت کے جوانوں کی صلاحیت اور ان کے عمل کے ساتھ درست ہم آہنگی واضح ہوگی۔

محمد رعد نے مزید کہا کہ جب دشمن کا انخلا یقینی ہوجائے، اس کی جارحیت رک جائے اور لبنانی فوج دریائے لیطانی کے جنوب میں اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کے لیے تیار ہوجائے، تو اس کے بعد ہتھیاروں کو ریاست کے پاس محدود کرنے اور قومی جامع دفاعی حکمت عملی کے تحت قومی دفاع میں مزاحمت کے کردار پر بات چیت کے لیے ضروری ماحول پیدا ہوجائے گا۔

News ID 1941607

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha